Sunday, 16 June 2013

بھوک ہڑتالی کیمپ

بلوچ اسیران کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں بی این وی وفد کا دورہ،لواحقین سے اظہار یکجہتی

کوئٹہ (بلوچ راج ) لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1178دن ہوگئے لاپتہ بلوچ اسیران شہداءکے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوںمیں بلوچ نیشنل وائس کا ایک وفد لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور انہوںنے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ وہ جماعتیں جو قوم پرستی کا نعرہ تو لگاتی ہے اپنے آپ کوقوم پرست پارٹیاں کہتی ہے مگر پارلیمان پسند بھی ہیں پارلیمنٹ میں جاکر حقوق حاصل کرنے کی بات کرتے ہیں پاکستان مرکزی اور ذیلی اسمبلیوں میں گذشتہ پینسٹھ سالوں میں بلوچوں کو کوئی حق نہیں ملا پتہ نہیں اب کیسے ملے گا پارلیمان پسند جماعتوں کو اچھی طرح پتہ ہے کہ پاکستانی ایوانوں میںجاکر اور اقتدار میں آکر کوئی حق وحقوق حاصل نہیں کیا جاسکتا بلکہ کرپشن جھوٹ اور جھوٹے وعدے رشوت چاپلوسی مراعات ومفادات کے حصول دولت پیسے کی کمائی بنگلوں کی تعداد میں اضافہ اور نوکریاں اپنے رشتہ داروں پارٹی ورکروں میں بانٹنے کے سوا اور کوئی قومی حقوق حاصل نہیں کئے جاسکتے پارلیمانی سیاست پر یقین رکھنے والے قوم پرستی کے دعویدار پارٹیاں بلوچ عوام اپنی رعیدت سمجھ کر ان پر حکمرانی کرنا چاہتی ہے چاہے عوام ٹی بی یا ہیپاٹائٹس بھوک وپیاس میں مرتے جائیں یا پھر پاکستانی فورسز کے آپریشنوں اغواءکے بعد شہید کرکے مسخ شدہ لاشوں کی شکل میں یا بمباری اور ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے مرتے جائیں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین قدیر بلوچ نے وفد سے کہاکہ قومی تحریک آزادی کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ مزاحمت کار مقامی مخبروں دلالوں گماشتوں اور لہروں کو بھی نشانہ بنائیں ۔

No comments:

Post a Comment